ساہیوال کیس کی اصل کہانی کیا ہے اور سی ٹی ڈی کو بیگ میں سے آخر کیا ملا

ساہیوال کیس کی اصل کہانی کیا ہے اور سی ٹی ڈی کو بیگ میں سے آخر کیا ملا

جنوری کو ایک گاڑی ساہیوال موڑوے ٹول پلازہ سے گزری اور ٹول پلازے سے کچھ دور سی ٹی ڈی نے گاڑی کو روکا اور انڈھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں 4 لوگ قتل ہوے اور سی ٹی ڈی نے مڈیا کو بتایا 4 دہشت گرد مارے گے رات کے وقت جائے واقوء میں موجود لوگوں نے واقع کی ویڈیو شوشل مڈیا میں اپلوڈ کی اور سی ٹی ڈی کا مکرو چہرا لوگوں کے سامنے آیا جب لوگوں نے ان بچوں کی باتیں سونی جن کو شاید موت کا مطلب بھی معلوم نہ ہو

میڈیا کے طلب کرنے پر سی ٹی ڈی حکام نے بتایا گاڑی میں بھاری بارود اور اسلحہ موجود تھا جب کہ فائرنگ کے نتیجہ میں کسی بھی قسم کا کوئی باروڈ نہ پہٹا اور اگی گاڑی میں اسلحہ موجود تھا تو گاڑی سے جوابی کاروائی کیوں نہ ہوئی

اس واقع کے بعد سی ٹی ڈی احکام اپنا بیان بار بار بدلتی رہی جس سے سی ٹی ڈی کی دہشت گردی صاف ظاہر ہونے لگی اور تو اور پولیس بھی سی ٹی ڈی کے خیلاف ایف آی آر بھی درج کرنے سے انکار کر گی لوگ سڑکوں میں نکل آئے اور 13 گھنٹے بعد آیف آی آر درج ہوئی اور معلوم ہوا کہ سی ٹی ڈی نے بے قصور لوگوں کو قتل کیا لیکن ہمارے نام نہاد سیاست دانوں نے سی ٹی ڈی کا بھر پور دیفع کیا

جب سی ٹی ڈی نے گاڑی سے ناش نکالنے سے پہلے گاڑی کی ڈیکی سے ایک بیگ نکالا اور گاڑی میں رکھا اور ناشوں کو واہاں ہی چھور کر چلے گے آخر اس بیگ میں کیا تھا اور سی ٹی ڈی کو کیسے معلوم ہوا کے بیگ دیکی میں ہے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بیگ میں کوئی باروڈ نہ تھا اگر باروڈ ہوتا تو جتنی فائرنگ کی گائی گاڑی پھٹ جاتی اور جب میڈیا نے بیگ کے مطلق طلب کیا تو معلوم ہوا کہ بیگ میں صرف کپڑے موجود تھے اب کپڑوں کے لیے سی ٹی ڈی نے قتل نہیں کیا حکومت کو چاہیے کہ وہ بیگ کا راز معلوم کریں کہ کیا اس میں سونا تھا گس کے بارے میں سی ٹی ڈی کو معلوم ہوا یہ کوئی بھاری رقم

اپنا تبصرہ بھیجیں