فتنہ دجال کے استقبال میں سب سے بڑی رکاوٹ علمائے اسلام ہیں


فتنہ دجال کے استقبال میں سب سے بڑی رکاوٹ علمائے اسلام ہیں : مولانا ابوطالب رحمانی 
انجمن اہل السنہ والجماعہ کا سہ روزہ اجلاس اختتام پذیر، ارتداد سے ہوشیار رہنے کی اپیل 
ممبئی۔ ۲۰؍جنوری: (نازش ہما قاسمی) آج انجمن اہل السنہ والجماعہ کی جانب سے سہ روزہ تحفظ سنت وعظمت صحابہ کانفرنس کا آخری دن تھا، اتوار کو چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے شہرومضافات سے کافی تعداد میں لوگ صابو صدیق پالی ٹیکنک کالج شیفر روڈ بائیکلہ کے گرائونڈ میں جمع تھے، مستورات کے لیے بھی الگ سے اہتمام کیاگیا تھا جس میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بعد نماز مغرب اجلاس کا آغاز قاری عمار (دارالعلوم امام ربانی نیرل) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا بعدہ اسعدالرحمن متعلم دارالعلوم امام ربانی نیرل اور عمر فاروق متعلم دارالعلوم امدادیہ چونا بھٹی مسجد نے نعت نبی ﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ اجلاس کے مہمان خصوصی مشہور خطیب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا ابوطالب رحمانی (کولکاتہ) نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ خطرہ انسان کی انسانیت کو ہے، انسان کو مٹایا جارہا ہے، انسان کو تباہ کیاجارہا ہے، انسانیت سسک رہی ہے، مررہی ہے، اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی تڑپتے ہوئے زخمی انسان کی ویڈیو بناکر سماج میں وائرل کرکے سماج کے دل کو وحشی بنادیا جائے۔ اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں، اس کی حقیقت میں چھپے ہوئے راز کیاہیں، وہ خاموش ایجنڈہ کیا ہے، مسلمانوں اسے سمجھیں اگر آج آپ کے گھروں میں آپ کی بیٹیوں کو للکارا جارہا ہے، عورتوں کو پکارا جارہا ہے، کہیں آزادی نسواں کے نام پر، کہیں طلاق ثلاثہ کے نام پر ، اور یہ بتایا جارہا ہے کہ دنیا کی سب سے مظلوم ترین عورت مسلمان عورت ہے اور دنیا کا سب سے ظالم مرد مسلمان مرد ہے یہ جو مارکیٹنگ کی جارہی ہے، اس مارکیٹنگ کے پھیلانے میں وہ خفیہ ایجنڈہ کیا ہے؟ وہ خفیہ ایجنڈہ دجال کی آمد کا ایجنڈہ ہے، دنیا دجال کی آمد کی استقبال کےلیے تیار ہورہی ہے، فتنہ دجال کےلیے جو ماحول بنایا جارہا ہے اس ماحول کے بیچ میں اگر دنیا کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو وہ مذہب اسلام اور اسلام کے ماننے والے علما ءہیں ۔ انہوں نے آگے کہا کہ ہماری نسلوں کے کان ترس گئے ہیں کہ بیٹا اُٹھ جائو صبح فجر کی نماز پڑھنی ہے،صبح اسکول جانے کی صدائیں تو لگائی جارہی ہیں لیکن اسلام کے اہم رکن نماز سے بے اعتنائی برتی جارہی ہے۔ آج مسلمانوں کی بیٹیاں فتنہ ارتداد کی شکار دین اسلام سے دوری اور بنیادی تعلیمات سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے ہورہی ہیں ۔انہوں نے نئی نسل کو بچانے کےلیے رہنما اصول بتائے ،بچوں کو موبائل سے دور رکھنے اور جلد سونے کی کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ دین اسلام پر جو چلے گا، اللہ اسے کامیاب بنائے گا، اپنے ساتھ ساتھ اپنی خواتین اور بچوں کے دین کی بھی فکر کریں ، اپنے اعضاء وجوارح کو بھی مسلمان بنائیں جبھی ہم فتنہ ارتداد سے بچ سکیں گے۔ اس سے قبل مولانا محمد عرفان قاسمی (مبلغ دارالعلوم دیوبند) نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں اس بات کی فکر کرو کہ ہماری نسل میں دین آجائے۔ نئی نسل دین سے آراستہ ہو، اگر آپ نے نئی نسل کی فکر نہیں کی تو ستر سالہ بوڑھا کلمہ پڑھنے سے قاصر ہوگا ، اگر نئی نسل کو دینی مکاتب ومدارس سے واقف نہیں کرایا گیاتو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ، انہوں نے علمائے دیوبند کی حب نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کا بہترین انداز میں تعارف کرایا ۔ مولانا محمود دریابادی نے اہل السنہ والجماعہ کا یہ اعلامیہ پیش کیا ’’سیرت رسول ﷺاور سیرت صحابہ ؓکے مطابق زندگی گزاریں۔ بے حیائی وفحاشی ، اصراف ، بے جا رسومات سے پرہیز کریں، علماومشائخ سے رابطہ رکھیں ان کی ہدایت پر عمل کریں، دین وشریعت میں مداخلت کرنے والوں سے ہوشیار رہیں، نوجوانوں بچوں اور بچوں میں ارتداد پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں‘‘۔انہوں نے پروگرام کی کامیابی کےلیے پولس کے اعلیٰ افسران سمیت ناگپاڑہ پولس ڈپارٹمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت دارالعلوم امدادیہ کے استاد مولانا ومفتی سعید الرحمن فاروقی (خلیفہ ومجاز مولانا شاہ ابرارالحق ہردوئی) نے کی۔ اجلاس میں قاری صادق (مہتمم معراج العلوم چیتا کیمپ)، مولانا محمود دریابادی (علما کونسل)، حافظ عظیم الرحمن صدیقی (ناظم اعلیٰ دارالعلوم امدادیہ)، مولانا صغیر نظامی، مولانا نوشاد قاسمی، غفران ساجد قاسمی ، خان افسر قاسمی(بصیرت آن لائن)، حافظ علاء الدین ( استاد دارالعلوم امدادیہ)،مولانا صابر قاسمی، مولانا زاہدخان قاسمی ، مولانا وکیل مظاہری (صفا اسکول)، مولانا ذاکر قاسمی، مولانا اسید فاروقی، مفتی آزاد بیگ، مولانا شمیم باندوی سمیت دارالعلوم امدادیہ ممبئی ، معراج العلوم چیتا کیمپ، مدرسہ فرقانیہ گوونڈی ، دارالعلوم امام ربانی (نیرل) اور قرب وجوار کے مدارس کے طلبہ واساتذہ شریک تھے۔ اجلاس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلیے کنوینر اجلاس مولانا عبدالرشید ندوی اور ان کے معاونین نے نمایاں رول ادا کیا۔مفتی عزیز الرحمن فتح پوری (مفتی مہاراشٹر ) کی پرسوز دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ واضح رہے کہ اس اجلاس کو بصیرت آن لائن کے یوٹیوب آفیشیل پیج سے روزانہ قاری شہاب صدیقی (منیجنگ ایڈیٹر بصیرت آن لائن) کی مدد سے نشر کیاگیا، جسے ممبئی سے باہر اور بیرون ممالک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے دیکھا اور سنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں