امریکہ معاشی تباہی کی جانب گامزن 27 حصوں میں بکھرنے کے لیے تیار۔ ۔

افغانستان واقع دنیا کی عالمی قوتوں کا قبرستان صابت ہوا جس طرح افغانستان میں صوفیت یونین افغانستان میں داخل ہوا لیکن آج تک واپس نہیں آیا اس طرح امریکہ بھی تباہی کی جانب گامزن ہے۔ ۔

عالمی معاملات پر نظر رکھنے والے دانشواروں نے پیشن گوئی کر دی کہ امریکہ بامشکل 2 یا 3 سال تک اپنا وجود برکرار رکھ پائے گا اور 2023 تک یونئٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ دنیا کے نقشہ سے غائب ہو جائے گا ۔ ۔

افغانستان نے امریکہ کا حال روس سے بھی برا کر دیا جس کا اندازہ ہم ڈونر ٹرمپ کی گزشتہ دنوں کی گفتگو سے لگا سکتے ہیں۔ افغانستان میں جاری جنگ نے امریکہ کو کے ٹیکس دھندگان کو ہر سال 45 ارب ڈالر ادا کرنے پڑ مجبور کر رکھا ہے۔ حکومت کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ ملازمیں کو تنخوا دینے کو پیسہ نہیں جس کی واجہ سے حکومت نے 3 ماہ سے ایک لاکھ ملازمیں کو تنخواہ نہیں دی۔ ملازمین اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔ لوگ اپنے اور اپیے بچوں کو کھیلانے کے لیے چوڑی کرنے پڑ مجبور ہے ۔ ملک میں حانہ جنگی کا سما ہے ۔ امریکہ میں ابھی تک 555 بنک دیوالیا ہو گئے ہیں اور 250 مزید ہونے والے ہیں۔ بنک دیوالیا ہونے کی واجہ حکومت کا بنک سے قرضہ لینا اور واپس نہ کرنا ہے۔ ۔

اعدادوشمار کے مطابق امریکہ اس وقت 22 ٹریلین ڈالر کا مقروض بن کر دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے ۔ 2014 سے لیے کر 2018 تک 2 لاکھ 76 ہزار امریکیوں کو امریکیوں نے ہی قتل کر دیا ہے ۔ زرائع کے مطابق امریکہ میں موجود غیر ملکیوں نے امریکہ سے اپنی سرمیا کاری نکالنا شروع کر دی سے اور امریکہ کے اپنے شہری دوسرے ملکوں میں سرمیاداری کرنے کے لیے دور لگا رہے ہیں ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں